ہفتہ 31 اکتوبر 2026 - 15:27
ذاتِ الٰہی ہر قسم کی تبدیلی اور تغیر سے پاک ہے: آیت اللہ دری نجف آبادی

حوزہ/ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے کہا ہے کہ انسانی آنکھیں ذاتِ اقدسِ الٰہی کا احاطہ نہیں کر سکتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت دل، ایمان اور عقلی دلائل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے اپنے درسِ خارج میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفاتِ الٰہی پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی آنکھیں دیکھنے کے زاویے، فاصلے اور حالات کے بدلنے سے چیزوں کو مختلف انداز میں دیکھتی ہیں، لیکن ذاتِ اقدسِ الٰہی ان تمام تبدیلیوں سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مادی مخلوقات کی طرح ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

آیت اللہ دری نجف آبادی نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ ازلی، ابدی اور واجب الوجود ہے۔ اس کی ذات، صفات اور کمالات میں کسی قسم کی تبدیلی یا تغیر نہیں آ سکتا، کیونکہ تبدیلی اور تغیر محدود مادی مخلوقات کی خصوصیات ہیں۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «لَا تُدْرِکُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت دل، ایمان اور عقلی دلائل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے خداشناسی میں برہانِ اِنّی اور برہانِ لِمّی کا فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ برہانِ اِنّی میں انسان کائنات کی نشانیوں اور مخلوقات کے ذریعے خدا کے وجود تک پہنچتا ہے، جبکہ برہانِ لِمّی میں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی صفاتِ کمال کو دوسری چیزوں کی شناخت کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اول ہے یعنی اس سے پہلے کوئی نہیں، اور آخر ہے یعنی اس کے بعد کوئی نہیں۔ تمام مخلوقات محدود ہیں، لیکن ذاتِ الٰہی لامحدود اور بے مثال ہے۔

آیت اللہ دری نجف آبادی نے واقعۂ جمل کے دوران توحید کے بارے میں امیرالمؤمنینؑ کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی احدیت کا مطلب اس کی ذات اور صفات کا یکتا اور بے مثال ہونا ہے، نہ کہ عددی اعتبار سے ایک ہونا۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، جبکہ تمام مخلوقات اپنے وجود اور بقا میں اسی کی محتاج ہیں۔

انہوں نے آخر میں توحید کی معرفت کو عمیق کرنے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوقات سے تشبیہ دینے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha